اقرا روضۃ الاطفال — 1984 سے قرآنی علوم اور عصری تعلیم کو یکجا کرنے والا ایک پیشرو ادارہ۔
تعارف
کچھ ہمارے بارے میں
اقرأ روضۃ الاطفال ۔۔۔۔۔۔ جہاں دینی تعلیم و تربیت اور عصری علوم و فنون کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔اقرأ۔۔۔۔۔ وہ اولین دینی ادارہ جس نے اس وقت کمسن نونہالان امت کی دینی بنیادوں پر تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا جب انہیں لادینی کی مسموم فضاؤں نے گھیر رکھا تھا ۔
اقرأ روضۃ الاطفال ۔۔۔۔۔ اقرأ نظام تعلیم کا بانی ادارہ ، جس نے تعلیم کی بنیاد قرآن اور حفظ قرآن پر رکھی؛ تاکہ دین و ایمان بچوں کی گھٹی میں شامل ہو جائے، قرآن اور حفظ قرآن کی نعمت گم گشتہ دوبارہ ہمارے گھروں اور دلوں میں گھر کر جائے، جس کی ضیاء پاشیوں سے ہماری دنیا و آخرت روشن ہو جائیں ۔
اقرأ روضۃ الاطفال کا قرآنی مشن افراد یا ادارے سے وابستہ نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد مال و دولت ، عزت و شہرت یا دنیوی شرف و جاہ کا حصول ہے؛ بلکہ مسلم معاشرے کو تعلیم قرآن کی بنیاد پر تعلیم کا ایک ایسا اسلوب و طرز مہیا کرنا ہے کہ ہر مسلمان کو اس کی متاع گم گشتہ یاد دلادے ،ہر دل میں اس کے حصول کی تڑپ پیدا کردے اور ہر بچے کو دین و دنیا کے علوم اور بہترین تربیت سے آراستہ کر کے کامیابی کی شاہراہوں پر ڈال دے ۔
1984 سے
امت کی خدمت میں مصروف
40
1984
1000
اقرأ روضۃ الاطفال کا آغاز
مفتی مزمل حسین صاحب کے والد حاجی محمد حسین کاپڑیا کے تعاون سے حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمة اللہ علیہ کے مکان کے دو کمروں میں 4؍ اپریل 1984ء کو اقرأ روضۃ الاطفال کا آغاز ہوا۔
اقرأ کی افتتاحی تقریب میں حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ
- مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ،
- مفتی احمد الرحمن ،
- مولانا محمد ادریس میرٹھی،
- مولانا سید مصباح اللہ شاہ ،
- مولانا بدیع الزماں،
- مولانا عبد القیوم چترالی،
- مولانا محمد سواتی،
- مفتی نظام الدین شامزئی،
- مولانا سلیم اللہ خا ن،
- مولاناشاہد تھانوی،
- حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ کے صاحبزادے حافظ فضل الرحمن
- ڈاکٹر عبد الرحیم اسماعیل ،
- حاجی محمد حسین کاپڑیا،
- مولانا عبد المجید،
- مولانا خلیل الرحمن نعمانی
اور کراچی کے جید علماء کرام و مشائخ عظام شریک ہوئے۔
حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمۃ اللہ علیہ نے بچوں کو بسم اللہ پڑھا کر اپنی دعاؤں سے اس کا افتتاح فرمایا، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی نے خطاب کرتے ہوئے اقرأ کو پاکستان میں پہلی اسلامی مونٹیسوری قرار دیا۔
ہمارا تصور, نصب العین, عزم
- ہر طالب علم کو مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی قدروں سے مانوس و متعارف کراتے ہوئے ایک سچا مسلمان بنانا
- مسلمان بچوں کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے پاکستان کا وفادار ،مفید اور کار آمد شہری بنانا
- حفظ قرآن کریم کو بنیاد بنا کر ہر شعبۂ زندگی کے لیے معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ رجال کار کی فراہمی
- قرآن کی عملی تفسیر کے حامل افراد پر مبنی فلاحی معاشرے کی تشکیل
وہ اصول جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں
03
خود شناسی و احساس ذمہ داری
طلبہ میں اپنی شناخت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا کہ ان میں سے ہر ایک اہم ہے اور ہر ایک اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق ذمہ دار بھی ہے
02
امانت و دیانت
طلبہ میں احساس پیدا کرنا کہ ان کا وقت، علم اور صلاحیت اللہ کی امانت ہیں، جنہیں پوری دیانتداری سے استعمال کرنا ہے
01
احسان
ہر کام میں عمدگی اور بہترین معیار کے حصول کی کوشش
ایمان میں مضبوط،
دنیا کے لیے تیار
- سلامی تعلیمات پر مبنی عقائد و نظریات اور عقل و دانش سے آراستہ تمدن اور اخلاق و معاشرت
- ایک ایسی تہذیب کی آبیاری جہاں طلبہ اپنے اسلامی ورثے پر فخر محسوس کریں اور ساتھ ہی جدید دنیا کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے خود اعتماد رہیں